Featured Post

SalaamOne NetWork

SalaamOne سلام   is   a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cul...

متواتر حدیث - 150



 "متواتر حدیث " قطعی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں ۱۰۰٪ یقین ہوتا ہے اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کا درجہ قرآن کی طرح یقینی ہے۔ جبکہ "صحیح"  ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، لیکن اس میں متواتر جیسا ۱۰۰٪ یقینی درجہ نہیں ہوتا کیونکہ راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔

متواترکا انکار کرنا کفر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ دین کی ایسی حقیقت ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔

جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں جن میں شک کی گنجائش نہیں . جب تک دیے گیے اصولوں ١ کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا  "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.

<<<<<Read / Download as G-Doc >>>




اسلام اور جہاد و قتال
 https://www.facebook.com/share/p/1DTRse5xVJ


پاکستانی طالبان (TTP) اور افغان طالبان (IEA) کے بیانیے

متواتر احادیث جن کو قرآن کی مدد حاصل ہے
 https://Quran1book.blogspot.com/2026/02/Twatir.html


 ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان تنظیمی اور نظریاتی فرق
پ
اکستانی آئین "کفریہ" - علمی رد
 

تی تی پی (TTP) کے بیانیے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے حکمتِ عملی  

 جہاد، ہجرت اور تکفیر
ر  

 ٹی ٹی پی کے ایجنڈے کا قرآنی و علمی رد  

 اطاعتِ رسول اللہ ﷺ

وحی اور علم و حکمتِ (و حی غیر متلو ؟): مفہوم اور نوعیت  
 قرآ ن کے احکام کے برخلاف عمل کا بیان  
 نماز (صلوات) تراویح https://www.facebook.com/IslamiRevival/posts/pfbid03Zhr54ytkBMo7izSmoQe1CR8CukggcRayGGRzh6M4zFkxmbDCX8bVuWoHWHJ3iSnl  

بشریت  رسول اللہ اور اجتہادی لغزشوں کی تصحیح
  قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا ‎﴿١١٠﴾‏
 آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے(18:110)