"متواتر حدیث " قطعی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے اللہ کے رسول ﷺ کا کلام ہونے میں ۱۰۰٪ یقین ہوتا ہے اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کا درجہ قرآن کی طرح یقینی ہے۔ جبکہ "صحیح" ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ یعنی اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہونے کا غالب گمان (Strong probability) ہوتا ہے، لیکن اس میں متواتر جیسا ۱۰۰٪ یقینی درجہ نہیں ہوتا کیونکہ راوی انسان ہے اور اس سے غلطی کا ایک معمولی سا امکان رہتا ہے۔
متواترکا انکار کرنا کفر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ دین کی ایسی حقیقت ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ احادیث کے ذخیرے میں صحیح احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کتبِ احادیث (بخاری، مسلم وغیرہ) کا بڑا حصہ ٩٩% اسی پر مشتمل ہے۔
جن کو "صحیح احادیث" کہتے ہیں وہ ظنی ہیں مگر "متواتر حدیث " تھوڑی ہیں جن میں شک کی گنجائش نہیں . جب تک دیے گیے اصولوں ١ کی بنیاد پر کام مکمل نہیں ہوتا "متواتراحادیث " سے فائدہ لیا جا سکتا ہے.
